بھٹکل 19/ مارچ (ایس او نیوز) یہاں بھٹکل ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ایک نالے سے کل سنیچر کو ایک نامعلوم لاش برآمد ہوئی تھی، جس کی آج اتوار کو شناخت کے بعد بھٹکل قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ہے۔
سنیچر دوپہر قریب دو بجے کچھ آٹو رکشہ والے ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ایک نالے میں اپنے آٹو دھورہے تھے کہ اچانک پانی کے اندر ایک لاش دیکھ کر چونک گئے، لاش نالے کے اندر ڈوبی ہوئی تھی، مگر پانی صاف ہونے کی وجہ سے کافی دور سے ہی نظر آرہی تھی۔ فوری طور پر مقامی پولس کو واقعے کی خبر دی گئی۔ پولس کی موجودگی میں مقامی نوجوانوں نے لاش کو باہر نکالا،البتہ شناخت نہیں ہوپائی۔ اس تعلق سے ساحل آن لائن نے وہاٹس ایپ کے ذریعے لاش کی فوٹو اور مختصر مسیج سبھی گروپوں میں پھیلادیا، جس کی بنیاد پر آج اتوار کو لاش کی شناخت عطاء اللہ (60) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
عطاء اللہ ابن عبدالغفورشریف دائونگیرہ کا رہنے والا تھا، کافی غریب ہونے کی وجہ سے بھٹکل میں لوگوں سے بھیک مانگ کر گذارہ کررہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ گلمی میں اُس کے کچھ رشتہ دار بھی ہیں، جہاں وہ قیام کررہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ عطاء اللہ کو دو لڑکیاں ہیں جو دائونگیرے میں ہی رہتی ہیں۔
غریب ہونے کی وجہ سے گھروالے لاش کو لینے بھٹکل نہیں آسکے، اس بنا پر مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کے نوجوانوں نے بعد نماز ظہر عطاء اللہ کو گلمی مسجد میں غسل دے کر وہیں نماز جنازہ ادا کرکے بھٹکل کے پرانے قبرستان میں تدفین کی۔ اللہ اس شخص کی مغفرت فرمائے ۔ اٰمین
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک شراب خانہ ہے، جہاں سے کافی لوگ شراب کے نشے میں مست ہوکر قریب میں ہی پڑے رہتے ہیں، اکثر لوگ شراب کے نشے میں ہی قریبی نالے میں اُترجاتے ہیں جس کے نتیجے میں اُن کی لاش ہی بعد میں باہرنکلتی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں۔